950true dots bottomright 300true true 800http://www.murshidhussain.com/wp-content/plugins/thethe-image-slider/style/skins/frame-white
  • 9000 random false 60 bottom 0 https://www.facebook.com/murshid.hussain.7315?pnref=story
     Slide6
  • 5000 random false 60 bottom 0 https://www.facebook.com/murshid.hussain.7315?pnref=story
     Slide2
  • 5000 random false 60 bottom 0 https://www.facebook.com/murshid.hussain.7315?pnref=story
     Slide4
?

شان اولیاء اللہ

شان اولیا اللہ

حدیث نمبر -1

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔ جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اس کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہوں اور میرا بندہ ایسی کسی چیز کے زریعے قرب حاصل نہیں کرتا جو مجھے پسند ہیں اور میں نے اس پر فرض کی ہیں بلکہ میرا بندہ برابر نوافل کے زریعے میرا قُرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو اس کی سماعت بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ سنتا ہے اور اُسکی بصارت بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ دیکھتا ہے اور اسکا ہاتھ بن جاتا ہوں جسکے ساتھ وہ پکڑتا ہے اور اُسکا پیر بن جاتا ہوں جسکے ساتھ وہ چلتا ہے اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں ضرور اُسے عطاء فرماتا ہوں اور اگر وہ میرے پناہ پکڑے تو ضرور میں اُسے پناہ دیتا ہوں اور کِسی کام میں مجھے تردّد نہیں ہوتا جسکو میں کرتا ہوں مگر مومن کی موت کو بُرا سمجھنے میں کیونکہ میں اُسکے اس بُرا سمجھنے کو بُرا سمجھتا ہوں۔

بخاری شریف کتاب الرقاق

حدیث نمبر -2

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک شخص نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا  پھر وہ  یہ پوچھتا پھرتا تھا کہ کیا اِسکی توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ اس نے ایک  راہب  (عیسائیوں میں تارک الدنیا عبادت گزار) کے پاس جا کر یہ سوال کیا: کیا اسکی توبہ ہے؟ راہب نے کہا : تمہاری توبہ نہیں ہوسکتی، اُس نے راہب کو بھی قتل کر دیا۔ اِس نے پھر سوال کرنا شروع کیا اور وہ اُس بستی سے نکل کر دوسری بستی کی طرف جانے لگا۔ جس میں کچھ نیک لوگ (اولیاء اللہ) رہتے تھے ۔ جب اس نے راستے کا کچھ حصّہ طے کیا تھا تو اسکو مو ت نے آلیا، اس نے اپنا سینہ کچھ دور کردیا ، پھر مرگیا، پھر رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں میں بحث ہوئی ، وہ ایک بالشت کے برابر نیک آدمیوں (اولیاء اللہ) کی بستی کے قریب تھا، سو اس کو اس بستی والوں سے لاحق کر دیا گیا۔

صحیح مسلم ، کتاب التوبہ

 

حدیث نمبر -3

حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ریع کی بہن ام حارثہ نے کسی انسان کو زخمی کر دیا ۔ انہوں نے اس کا مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پیش کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قصاص یعنی بدلہ لیا جائے گا ام ربیع نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا فلاں سے بدلہ لیا جائے گا؟ اللہ کی قسم! اس سے بدلہ نہیں لیا جائے گا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ پاک ہے۔ اے ام ربیع بدلہ لینا اللہ کی کتاب (کا حکم) ہے۔ اس نے کہا اللہ کی قسم اس سے کبھی بدلہ نہ لیا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں وہ مسلسل اسی طرح کہتی رہی۔ یہاں تک کہ ورثاء نے دیت قبول کرلی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بندوں میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم اٹھالیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا فرما دیتا ہے۔

متعلقه احاديث

صحيح مسلم : 7583181
صحيح البخاري : 4166 | 6416
سنن النسائى الصغرى : 1126 | 4697
سنن الدارمي : 1433
سنن ابن ماجه : 1413 | 1414 | 1412
جامع الترمذي : 354
السنن الكبرى للنسائي : 720 | 6709 | 6712 | 6714 | 7979

Leave a Reply

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)