950true dots bottomright 300true true 800http://www.murshidhussain.com/wp-content/plugins/thethe-image-slider/style/skins/frame-white
  • 9000 random false 60 bottom 0 https://www.facebook.com/murshid.hussain.7315?pnref=story
     Slide6
  • 5000 random false 60 bottom 0 https://www.facebook.com/murshid.hussain.7315?pnref=story
     Slide2
  • 5000 random false 60 bottom 0 https://www.facebook.com/murshid.hussain.7315?pnref=story
     Slide4
?

آذان میں اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سنکر انگوٹھے چومنا

سوال ۔ اہل سنت اذان و اقامت میں نبی کریم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا اسم گرامی سن کر انگوٹھے چومتے ہیں ، اس کی کیا دلیل ہے ؟ بعض لوگ اس مسئلے میں بھی شدید مخالفت کرتے ہیں ۔

جواب ۔ اذان میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی سن کر اپنے دونوں انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانا جائز و مستحب اور باعث خیر و برکت ہے۔ اس کے جواز پر متعدد احادیث اعلی حضرت محدث بریلوی رحمہ اللہ نے اپنی تصنیف (منیر العین فی حکم تقبیل الابہامین) میں نقل فرمائی ہیں جبکہ اس سے ممانعت پو کوئی دلیل نہیں ہے۔
علامہ اسماعیل حقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، (اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے جمال کو حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں انگوٹھوں کے ناخنوں میں مثل آئینہ ظاہر فرمایا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے انگوٹھوں کو چوم کر آنکھوں پر پھیرا ، پس یہ سنت ان کی اولاد میں جاری ہوئی)۔ (تفسیر روح البیان جلد ۴ ص ۶۴۹)
امام ابو طالب محمد بن علی مکی رحمہ اللہ اپنی کتاب قوت القلوب میں ابن عینیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے دس محرم کو مسجد میں تشریف لائے اور ستون کے قریب بیٹھ گئے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اذان میں آپ کا نام سن پر اپنے انگوٹھوں کے ناخنوں کو اپنی آنکھوں پر پھیرا ، اور کہا ، (قرہ عینی بک یا رسول اللہ) ۔ (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آ پ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں) ۔

جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان سے فارغ ہوئے تو آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے ابو بکر ! جو تمہاری طرح میرا نام سن کر انگوٹھے آنکھوں پر پھیرے اور جو تم نے کہا وہ کہے، اللہ تعالی اس کے تمام نئے پرانے، ظاہر و باطن گناہوں سے درگزر فرمائے گا۔ (ایضا ، صفحہ ۶۴۸)

امام سخاوی ، امام دیلمی کے حوالے سے فرماتے ہیں، (حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب موذن سے (اشھد ان محمدا رسول اللہ) سنا تو یہی جواب میں کہا اور اپنی شہادت کی انگلیاں زیریں جانب سے چوم کر آنکھوں سے لگائیں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو میرے اس پیارے دوست کی طرح کرے اس کے لیے میری شفاعت حلال ہوگئی۔
(المقاصد الحسنہ)

امام سخاوی، امام محمد بن صالح مدنی کی تاریخ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے امام مجد دمصری کو یہ فرماتے سنا کہ جو شخص آذان میں آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک سن کر درود پڑھے اور اپنی شہادت کی انگلیاں اور انگوٹھے ملا کر انکو بوسہ دے اور آنکھوں پر پھیرے ، اس کی آنکھیں کبھی نہ دکھیں گی۔ (ایضا)

فقہ کی مشہور کتاب رد المختار جلد اول صفحہ ۳۷۰ پر ہے ، ( مستحب ہے کہ اذان میں پہلی بار شہادت سن کر ( صلی اللہ علیک یارسول اللہ ) اور دوسری بار شہادت سن کر ( قرہ عینی بک یا رسول اللہ ) کہے ، پھر اپنے انگوٹھے چوم کر اپنی آنکھوں پر پھیرے اور یہ کہے ، ( اللھم متعنی بالسمع والبصر ) تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے ساتھ جنت میں لے جائیں گے ۔ ایسا ہی کنز العباد امام قہستانی میں اور اسی کی مثل فتاوی صوفیہ میں ہے)۔

اسی طرح کتاب الفردوس ، شرح نقایہ ، طحطاوی اور بحر الرئق کے ہواشی رملی میں ہے اور حاشیہ تفسیر جلالین میں یوں ہے کہ (ہم نے اس مسئلے پر اس لیے طویل گفتگو کی کیونکہ بعض لوگ جہالت کی وجہ سے اس مسئلے میں اختلاف کرتے ہیں) ۔ حنفی علماء کے علاوہ شافعی علماء اور مالکی علماء نے بھی انگوٹھے چومنے کو مستحب قرار دیا ہے۔

بعض لوگ یہ اعتراض کر تے ہیں کہ اس بارے میں کوئی صحیح مرفوع حدیث نہیں ہے، سب احادیث ضعیف ہیں۔ لہذا ضعیف حدیث شرعی دلیل نہیں بن سکتی۔ یہ اعتراض فن حدیث سے جہالت پر مبنی ہے۔ محدثین کا یہ فرمانا کہ(یہ احادیث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع ہو کر صحیح نہیں) یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ احادیث موقوف صحیح نہ ہونے سے ضعیف ہونا لازم نہیں آتا۔ ان کے علا و ہ بھی احادیث کے کئی درجے ہیں جن میں بد تر درجہ موضوع ہے جبکہ (فضائل اعمال میں ضعیف حدیث بالا جماع مقبول ہے)۔ (مرقاہ ، اشعتہ اللمعات)

انگوٹھے چومنے سے متعلق حدیث موقوف صحیح ہے چنانچہ محدث علی قادری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، (میں کہتا ہوں جب اس حدیث کا رفع حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تک ثابت ہے تو عمل کے لیے کافی ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، میں تم پر لازم کرتا ہوں اپنی سنت ار و اپنے خلفاء راشدین کی سنت)۔ (موضوعات کبیر ص ۶۴)

عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، ولی کامل ، اعلی حضرت بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ،
لب پا آجاتا ہے جب نام جناب ، منہ میں گھل جاتا ہے شہد نایاب
وجد میں ہو کے ہم اے جان بیتاب ، اپنے لب چوم لیا کرتے ہیں

رسالہ
(۱۳۰۱) منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین (۱۳۰۱) فتاوی رضویہ

Leave a Reply

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)