950true dots bottomright 300true true 800http://www.murshidhussain.com/wp-content/plugins/thethe-image-slider/style/skins/frame-white
  • 9000 random false 60 bottom 0 https://www.facebook.com/murshid.hussain.7315?pnref=story
     Slide6
  • 5000 random false 60 bottom 0 https://www.facebook.com/murshid.hussain.7315?pnref=story
     Slide2
  • 5000 random false 60 bottom 0 https://www.facebook.com/murshid.hussain.7315?pnref=story
     Slide4
?

حسنینِ کریمین رضی اللہ تعالٰی عنھما

وَ يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّ يَتِيْمًا وَّ اَسِيْرًا۰۰۸

اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبّت پر مسکین اور یتیم اور اسیر کو – (مترجم : امام احمد رضا بریلوی)
خزائن العرفان مفسر : حضرت علامہ نعیم الدین مرآدآبادی رحمۃ اللہ علیہ
یعنی ایسی حالت میں جب کہ خود انہیں کھانے کی حاجت و خواہش ہو اور بعض مفسّرین نے اس کے یہ معنٰی لئے ہیں کہ اللہ تعالٰی کی محبّت میں کھلاتے ہیں ۔ شانِ نزول: یہ آیت حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور ان کی کنیز فضّہ کے حق میں نازل ہوئی ، حسنینِ کریمین رضی اللہ تعالٰی عنھما بیمار ہوئے ، ان حضرات نے ان کی صحت پر تین روزوں کی نذر مانی ، اللہ تعالٰی نے صحت دی ، نذر کی وفا کا وقت آیا ، سب صاحبوں نے روزے رکھے ، حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک یہودی سے تین صاع (صاع ایک پیمانہ ہے) جَو لائے ، حضرت خاتونِ جنّت نے ایک ایک صاع تینوں دن پکایا لیکن جب افطار کاوقت آیا اور روٹیاں سامنے رکھیں تو ایک روز مسکین ، ایک روز یتیم ، ایک روز اسیر آیا اور تینوں روز یہ سب روٹیاں ان لوگوں کو دے دی گئیں اور صرف پانی سے افطار کرکے اگلا روزہ رکھ لیا گیا ۔

Leave a Reply

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)